جمعہ، 21 اگست، 2015

فاطمہ زھرا (س) اور فدک: ضیاء الافاضل مولانا سید غافر رضوی


فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور فدک

ضیاء الافاضل مولانا سید غافر رضوی چھولسی

جو انسان آفتاب موجود ہوتے ہوئے بھی اس کی روشنی کو نہیں دیکھ پائے اس کو نا بینا کہا جاتا ہے اور جو اسکی تابناک کرنوں سے انکار کرے اسے احمق اور بے وقوف کہا جاتا ہے ،چونکہ دھوپ میں کھڑا ہے پھر بھی وجود آفتاب کا منکر ہے ۔
جب آفتاب کے منکر کو عقلاء کی نظر میں بے وقوف کہا جاتا ہے تو جو چیز  ''اظھر من الشمس ،،  سورج سے بھی زیادہ روشن اور واضح ہو ...اگر کوئی انسان اس کا انکار کر بیٹھے تو اس کو کیا کہیں گے؟
اسی طرح کا سلوک فاطمہ زہرا٭کے ساتھ کیا گیا ،''فدک،،شہزادی ٭کا حق مسلم تھا جس سے کوئی انسان بھی نا واقف نہیں ہے ،اس کے باوجود بھی شہزادی٭ کو فدک سے محروم کیا گیا ..............
عزیزو!یہ کوئی ہوائی فائرنگ نہیں ہے ،بلکہ کتب تواریخ بھری پڑی ہیں کہ ''فدک ،،فاطمہ زہرا٭ کا حق تھا اور حکم خدا کے تحت رسول اسلام  ۖ نے آپ  کو عطا فرمایا تھا ۔
جب رسول اسلام  ۖ اور علی مرتضیٰ  ـنے فدک کو فتح کرلیا(١)  تو جبرئیل امین یہ آیت لے کر نازل ہوئے...وأت ذالقربیٰ حقہ(٢)
یعنی! اے رسول  ۖ اپنے قرابت داروں کو ان کا حق دے دیجئے....رسول اسلام  ۖ نے جبرئیل سے دریافت کیا ،جبرئیل!قرابتداروں سے مراد کون لوگ ہیں؟او تم کس حق کی بات کر رہے ہو وہ کون سا حق ہے جو مجھے ادا کرنا ہے؟
جبرئیل نے جواب دیا !''فدک،،فاطمہ زہرا٭ کے حوالہ کر دیجئے(٣)
رسول اسلام  ۖ نے فاطمہ زہرا ٭ کو طلب کیا اور فرمایا:۔اے فاطمہ  !خدا وند عالم نے فدک تمھارے باپ کے لئے فتح کیا اور یہ مجھ سے ہی مخصوص ہے اور اس سے مسلمانوں کاکوئی تعلق نہیں ہے، بس جس طرح میں چاہوں اس کا استعمال کروں ،اور خدا وند عالم نے حکم دیا ہے کہ کہ یہ فدک میں تمھیں عطاکروں ،اے بیٹی!تمھارا باپ یہ فدک تمھاری ماں (خدیجة الکبریٰ)کے مہر کے طور پر اور خدا وند عالم کے حکم سے تمھیں عطا کرتا ہے(٤)
شہزادی ٭ نے جواب دیا :۔بابا !  جب تک آپ حیات ہیں میں نہیں چاہتی کہ فدک اپنے اختیار میں  لوں ،آپ میری جان اور میرے مال پر کل اختیار رکھتے ہیں ۔
رسول اسلام  ۖ نے فرمایا:۔اے بیٹی!میں ڈر رہا ہوں کہ... میری وفات کے بعد ،نا اہل لوگ،اس کو بہانہ بنالیں کہ فاطمہ  نے حیات رسول  ۖ میں، فدک میں تصرف نہیں کیا ،اور اسی بہانہ کو لیکر ،تمھیں تمھارے حق سے محروم کر دیں ۔
فاطمہ ٭ نے عرض کی :۔بابا! جو بھی آپ مناسب سمجھیں اسی پر عمل کیجئے۔

(فدک کی سند اور گواہی)
رسول اسلام  ۖ نے قلم دوات طلب کیا ،اور علی  ـ کو اپنے قریب بلاکر فرمایا :۔علی  !ایک سند کے طور پر لکھ دو کہ....پیغمبر  ۖ یہ فدک فاطمہ زہرا ٭ کو عطا کر رہے ہیں ،علی  ـ نے لکھ دیا اور ام ایمن نے بھی گواہی دی۔
فاطمہ ٭نے وہ نوشتہ لیکر اپنے پاس حفاظت سے رکھ لیا (تاکہ اگر کوئی غاصب قدم اٹھائے تو یہ سند کام آئے)(٥)

(رسول اسلام  ۖ نے لوگوں کو بھی گواہ بنایا)
رسول اسلام  ۖ نے لوگوں کو فاطمہ ٭کے بیت الشرف میں جمع کیا اور فرمایا:۔''فدک،،فاطمہ زہرا کی ملکیت ہے ،اور اسی وقت فدک کی آمدنی و در آمد کو عطائے فاطمہ کے عنوان سے لوگوں میں تقسیم کیا او ر ان کے سامنے یہ ثابت کیا کہ اگر میرے بعدفدک کا کوئی مالک ہے تووہ فاطمہ زہرا ٭ ہیں (٦)
فاطمہ نے سر زمین فدک پر اپنا ایک نمائندہ منتخب کیا اور تمام مامورین فدک کو اسی نمائندہ کے ما تحت قرار دیا ،کہ جو سالانہ حساب کر نے کے بعد ،اس کی منفعت کو شہزادی ٭ کی خدمت میں پیش کر تا تھا ۔
مور خین نے فدک کی آمدنی و منفعت ''ستر ہزار سے لیکر ایک لاکھ بیس ہزار سونے کے سکے تک ،،لکھی ہے ۔(٧)
ان سکوں میں سے شہزادی اپنا سالا نہ خرچ نکال لیتی تھیں ،اور باقی سکے ؟فقیروں میں تقسیم کر دیتی تھیں ، اور یہ سلسلہ اسی طرح وفات رسول اسلام  ۖ تک قائم رہا(٨)
 فقراء و مساکین کی نظریں شہزادی٭ کی ڈیوڑھی پر لگی رہتی تھیں ،تاکہ آپ کچھ عطا کریں اور ہم سامان زندگی مہیا کریں(٩)

(غصب فدک)
لیکن افسوس ! اتنا کچھ ہو نے کے با وجودبھی ،ابھی وفات رسول  ۖ کو صرف دس دن گذرے تھے کہ ابو بکرکے مامور ،فدک پہونچے اور فاطمہ زہرا٭ کے نمائندہ کو وہاں سے نکال دیا ،اور فدک کو غصب کر لیا اور اس کی منفعت کو اپنی غاصبانہ خلافت پر خرچ کر نے لگے(١٠)

(فدک کے بارے میں امیر المومنین  ـ کا نظریہ)
 وفات رسول  ۖ کے بعد ،ابو بکر و عمر علیھما اللعنة،امیر المومنین علی ابن ابی طالب  کی خدمت میں پہونچے او ر پوچھا...اے علی  ـ وہ مال جو پیمبر اکرم  ۖ چھوڑ گئے ہیں ، اس کے بارے میں کیا نظریہ ہے؟ علی  ـنے جواب دیا اس مال کے ہم زیادہ حقدار ہیں ۔
عمر نے پوچھا:۔وہ مال جو خیبر میں ہے؟                   فر مایا :۔وہ بھی ہمارا ہے۔
عمر نے پوچھا:۔وہ مال جو فدک میں ہے؟                   فرمایا :۔ وہ بھی ہمارا ہے ۔
عمر نے کہا:۔میں ایسا ہر گز نہیں ہو نے دوں گا ( کہ سب مال تمھارا ہو جائے )چاہے میری گردن آرہ سے کاٹ دی جائے (١١)

(سند فدک اور خلیفہ کا دربار)
عمر نے حضرت فاطمہ زہرا ٭ سے کہا کہ جو نوشتہ آپ کے بابا نے فدک کے بارے میں آپ کے لئے لکھا ہے وہ لیکر آ ئیئے ۔
غصب خلافت کے بعد یہ شہزادی ٭کاپہلا قدم اٹھ رہا ہے ،نوشتہ لیکر دربار میں پہنچیں ۔اور ابو بکر کو وہ نوشتہ دکھاکر فرمایا:۔یہ نوشتہ ہے جو میرے بابا نے میرے اور میرے بیٹوں کے بارے میں تحریر فرمایا ہے اور یہ نوشتہ بابا نے خود ہی تحریر نہیں کیا بلکہ حکم خدا تھا کہ وہ فدک میرے حوالہ کریں ،اور دیکھو اس پر امیر المومنین  ـکے دستخط بھی ہیں ،ام ایمن اس بات پر گواہ ہیں (١٢)
بجائے اس کے کہ رسول کی بیٹی کی شنوائی ہو تی ،حدیث گڑھی جانے لگی کہ رسول  ۖ نے فرمایا ہے:۔ نحن معاشر الا نبیاء لا نورث ولا نورث،،ہم گروہ انبیاء نہ تو کسی کو وارث بناتے ہیں اور نہ کسی کے وارث بنتے ہیں ،شہزادی٭ نے قرآن کی آیتوں سے استدلال کیا لیکن وہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھا ،ستم بالائے ستم یہ کہ شہزادی ٭ کے ہاتھ سے وہ نوشتہ لیا اور اسکی تحریر کو آب دہن سے مٹانے کے بعد اسے پارہ پارہ کر دیا ،جو ببانگ دہل اعلان تھا کہ ہم پیغمبر  ۖ کے موافق نہیں ہیں (١٣)

(فاطمہ زہرا٭ کا احتجاج)
امیر المومنین  ـ کے حکم سے فاطمہ ٭ دوبارہ دربار میں پہونچیں اور فرمایا :۔تم نے میرے نمائندہ کو فدک سے کیوں نکالا؟حالانکہ فدک میرے بابا نے مجھے حکم خدا سے عطا کیا تھا ،''کیا تم یہ چاہتے ہو کہ جو زمین میرے بابا نے مجھے عطا کی ہے اور اس میں مسلمانوں کا کوئی حصہ نہیں ہے ،،وہ مجھ سے چھین لو؟کیا پیمبر  ۖ نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ:ہر شخص کی وفات کے بعد اس کی اولاد پر توجہ رکھنی چاہیئے ؟
تم تو اچھی طرح جانتے ہو کہ پیمبر  ۖکی اولادکے لئے آپ  ۖکی یاد گار صرف فدک ہے۔
ابو بکر نے کہا :۔عائشہ اور عمر گواہی دیتے ہیں کہ پیمبر  ۖ نے فرمایا:النبی لا یورث،،یعنی نبی میراث نہیں چھوڑتا۔
شہزادی٭ نے فرمایا :۔یہ پہلی نا انصاف گواہی ہے جو انھوں نے دی ہے ،فدک کے بارے میں میرے پاس گواہ موجود ہیں کہ جو گواہی دیں گے کہ پیمبر  ۖ نے فدک مجھے بخشا ہے۔
ابوبکر نے کہا:۔دلیل لیکر آئو۔
 شہزادی ٭نے فرمایا :۔کیا حیات رسول  ۖ میں فدک میرے اختیار میں نہیں تھا؟
کہا ہاں! تمھارے اختیار میں تھا۔
شہزادی ٭نے فرمایا :۔جب تم اس کے قائل ہو کہ فدک میرے اختیار میں تھا توجوچیزمیری ہے اس کے بارے میں مجھ سے گواہ کیوں طلب کر رہے؟
ابو بکر نے کہا:۔چونکہ فدک مال غنیمت ہے ،جو مسلمانوں کا حق ہے،اگر دلیل نہیں لائو گی تو میں دستخط نہیں کروں گا ۔
شہزادی ٭نے فرمایا:۔کیا تم یہ چاہتے ہو کہ حکم پیمبر  ۖ کی تردید کرو اور ہمارے بارے میں وہ فیصلہ کرو جو دوسرے مسلمانوں کے بارے میں نہیں کرتے ؟
اس کے بعد دختر رسول  ۖ دوسرے لوگوں کی طرف متوجہ ہوئیں او ر سوال کیا ........................
اے لوگو!کیاتم نے پیمبر  ۖ کو فرماتے سنا ہے کہ میری بیٹی زنان بہشت کی سردار ہے ؟
سب نے کہا ! ہاں قسم خدا کی ہم نے یہ سنا ہے ۔
فرمایا :۔کیا سیدہ زنان بہشت جھوٹا دعویٰ کر سکتی ہے اورجو اس کی ملکیت نہیں ہے اسے اپنے اختیار میں لے سکتی ہے ؟
اگر دو لوگ گواہی دیں کہ میں چور ہوں تو کیا تم ان دونوں کی بات کی تصدیق کروگے؟
پورے مجمع پر خاموشی حاکم ہو گئی ،اتنی خاموشی کہ سوئی گرنے کی بھی آواز سنائی دے،ابو بکر بھی خاموش ہو گیا ،لیکن عمر بولا:۔ہاں!میں ان کی بات کی تصدیق کروں گا اور تمھیں سزا دوں گا ۔
شہزادی٭نے فرمایا:۔تو جھوٹ بولتا ہے،تو مجھے اسی وقت سزا دے سکتا ہے جب یہ اقرار کرے کہ تو دین محمدی سے خارج ہوچکا ہے ،جو بھی سیدہ زنان بہشت کے خلاف کوئی گواہی قبول کرے یا اس کو سزا دے وہ ملعون ہے،چونکہ خدا نے جن ہستیوں سے نجاستوں کو دور رکھا اور ان پر پاکیزگیوں کا نزول کیا ان کے خلاف گواہی دینا جائز نہیں ہے۔
کیونکہ وہ معصوم ہیں اور ہر نجاست و برائی سے پاک ہیں ،اے عمرجو آیۂ تطہیر کے مصداق ہوں اگر کوئی ان کے خلاف گواہی دے کہ وہ مشرک ہیں یا کافر ہیں تو کیا مسلمانوں پر یہ لازم ہے کہ اہلبیت  ٪سے نفرت کرنے لگیںاور ان کو سزا دیں؟
عمر نے کہا:۔ہاں!اہلبیت  ٪بھی باقی لوگوں کی طرح ہیں ۔
شہزادی  نے فرمایا:۔توپھر جھوٹ بولا اور کافر ہو گیا ،اہلبیت٪ باقی لوگوں کی طرح نہیں ہیں ،چونکہ خدا نے ان کو معصوم بنایا ہے ،اور ان کی عصمت و طہارت پر آیۂ تطہیر گواہ ہے ،جو بھی ان کے خلاف گواہی دے یا گواہی قبول کرے ،وہ حقیقت میں خدا و رسول کو جھٹلا رہا ہے ۔
ابو بکر نے کہا :۔اے عمر!میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ خاموش ہو جا۔
اس کے بعد ابو بکر نے جناب فاطمہ   سے کہاکہ:۔فدک کے بارے میں دلیل لائو......................
شہزادی  نے فرمایا:۔خدا وند عالم نے ایک آیت نازل فرمائی تھی جس میں پیمبر اکرم  ۖ کو حکم دیا تھا کہ وہ میرا اور میری اولاد کا حق مجھے دیدیں ''فأ ت ذالقربیٰ حقہ،،میں اور میری اولاداوروں کی بہ نسبت پیمبر اکرم  ۖ سے زیادہ نزدیک تھے ،اسی لئے فدک آنحضرت  ۖ نے مجھے عطا کیا،جس وقت جبرئیل نے آیت کا اگلا حصہ پڑھا ''والمسکین و ابن السبیل(١٤)
تو پیمبر  ۖ نے سوال کیا ،یہ مسکین اور ابن سبیل کیا ہے؟تو خدا وندعالم نے یہ آیت نازل فرمائی ''واعلموا انما غنمتم من شئی فان للہ خمسہ و للرسول ولذی القربیٰ والیتامیٰ والمساکین وابن السبیل(١٥)
اس کے بعد شہزادی   نے فرمایا:۔جو کچھ خدا کے لئے ہے وہ رسول  ۖکے لئے ہے اور جو کچھ رسول کے لئے ہے وہ ذوی القربیٰ کے لئے ہے اور ذوی القربیٰ ہم لوگ ہیں ،خدا وند عالم فرماتا ہے''قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودة فی القربیٰ(١٦)
ابو بکر نے عمر کی طرف دیکھا اور پوچھا !تو اس بارے میں کیا کہتا ہے؟
عمر نے کہا :۔خدا ورسول اور ذوی القربیٰ کا تو پتہ چل گیا ،لیکن یہ یتیم ،مسکین،اور ابن سبیل کون لوگ ہیں؟ شہزادی  نے فرمایا :۔یتیم ایسے ہونے چاہیئیں کہ خدا ورسول اور ذوی القربیٰ پر ایمان رکھتے ہوں ، مسکین بھی وہ ہوں جو دنیا و آخرت میں خدا ورسول اور ذوی القربیٰ کے ساتھ ہوں ،ابن سبیل بھی ایسے ہوں جو ان کی راہ پر گامزن ہوں ۔
عمر نے کہا :۔تمھارے اس بیان کی بنیاد پر ہم اس نتیجہ پر پہونچے ہیں کہ تمام خمس اور مال غنیمت ،تمھارے لئے اور تمھارے دوستوں اور شیعوں کے لئے ہے؟
شہزادی  نے فرمایا:۔فدک کو خدا وند عالم نے میرے لئے اور میری اولاد کے لئے مقرر فرمایا ہے اور ہمارے چاہنے والوں اور شیعوں کے لئے مقرر نہیں کیا ہے،لیکن خمس کو ہمارے اور ہمارے دوستوں اور شیعوں کے درمیان تقسیم کیا ہے۔
عمر نے کہا:۔مہاجرین و انصار اور تابعین کے لئے کیا باقی رہا؟
شہزادی نے جواب دیا:۔اگر وہ بھی ہمارے دوست اور شیعہ ہوں ،تو زکات اور صدقہ جو خدا نے قرآن میں واجب قرار دیا ہے،ان تک پہنچے گا ''انما الصدقات للفقراء و المساکین والعاملین علیھا والمؤلفة قلوبھم وفی الرقاب(١٧)
اس طولانی مناظرہ کے بعد بھی عمر نے کہا:۔فاطمہ !اپنے دعوے پر دلیل لائو۔
شہزادی خود تو وہیں ٹھہریں اور کسی کو بیت الشرف کی جانب بھیجا تاکہ مولا علی  ـ اور امام حسن و امام حسین اور ام ایمن و اسماء بنت عمیس ،کو لیکر آئے ۔
سب آگئے ،شہزادی  نے ان کو پیش کیا ،اور سب نے شہزادی  کی تصدیق فرمائی۔لیکن..............
            بگڑتی ہے جس وقت ظالم کی نیت .......   نہیں کام آتی دلیل اور  حجت
گواہی سننے کے بعد عمر نے کہا:۔ علی  ـ فاطمہ  کے شوہر ہیں، حسن و حسین ان کے بیٹے ہیں، ام ایمن ان کی کنیز ہے، اسماء بنت عمیس بھی پہلے جعفرابن ابی طالب کی زوجہ تھی اور فاطمہ   کی کنیز تھی ، اس لئے یہ بھی ان کے موافق گواہی دیگی۔
اس مناظرہ اور مباحثہ کے بعد علی  نے اتمام حجت کیا اور فاطمہ کو بیت الشرف کی جانب روانہ کیا۔
پھرتیسری مرتبہ علی نے فاطمہ کو دربار خلافت میں بھیجا ،شہزادی ابو بکر کے پاس پہونچیں اور دلیل دے کر قائل کیا ،ابو بکر نے کہا:۔صدقت یا فاطمة،،اے فاطمہ تم صحیح کہہ رہی ہو !اس کے بعد ایک کاغذ طلب کیا اور اس پر تحریر کیا کہ........فدک فاطمہ   کا حق ہے ،وہ انھیں واپس کر دیا جائے ۔
شہزادی   نے وہ کاغذ لیا اور باہر تشریف لائیں ،عمر آپ  کے نزدیک آیا اورپوچھا اے بنت رسول!یہ کاغذ کیسا ہے اور اسمیں کیا لکھا ہے؟
شہزادی   نے فرمایا:۔یہ ابو بکر کا نوشتہ ہے ،جس میں فدک واپس کر نے کے لئے لکھا ہے ۔
عمر نے کہا:۔یہ کاغذ ذرا مجھے دیجئے ،شہزادی   نے انکار کر دیا اور عمر کو وہ کاغذ نہیں دیا ۔
یہاں اس ملعون نے شہزادی   کی شان میں وہ گستاخی کی کہ ......قلم تحریر سے قاصر ہے اور زبان بیان کرنے سے گنگ ہے(١٨)
اس کے بعد ملعون نے وہ کاغذ شہزادی   کے ہاتھ سے چھینا ،اور اسکی تحریر آب دہن سے مٹائی ، اور اسے پارہ پارہ کردیا(١٩)
نتیجہ یہ ہواکہ نہ تو فد ک واپس کرنا تھا اور نہ ہی واپس کیا ،یہا ں آکر مجھے اپنا ایک قطعہ یاد آگیا..
سخی ابن سخی کی زوجہ ہے بنت نبی،   غافر         لباس فاخرہ بھی اپنا یہ تحفہ     میں     دیدیتی
علی کے نام پر زہرا سے تم نے مانگا تو ہوتا         فدک کیا چیز ہے،جنت کوبھی صدقہ میں دیدیتی
لیکن جب حرام مال کھانے کی عادت ہوجا تی ہے تو پھر رزق حلال میں مزہ نہیں آتا ۔
اور قارئین کرام! یہ بھی ایک نازک نکتہ ہے کہ.....یہ جو آج کل ہمارے معاشرہ میں غصب کی رسم رائج ہے یہ کوئی نئی رسم نہیں ہے بلکہ یہ بہت پرانی ''سنة السیئة،،ہے جو خلفاء کی مرھون منت ہے
پرور دگار ! ہمیں اس سنت سیئہ سے دامن بچانے کی توفیق عطا فرما، اور اس پر عمل پیرا ہونے والوں سے زیادہ سے زیادہ نفرت و بیزاری کا جذبہ عنایت فرما۔ آمین
 والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ
ضیاء الافاضل مولانا سید غافر رضوی
   حوالہ جات:۔
(١)بحار الانوارج:٢١      ص:٢٢          تہذیب الاحکام ج:١   ص:٤٢٤
      الخرائج ج:١          ص:١١٣  اسرار فدک      ص:١٨
(٢)سورہ ٔاسراء/٢٦
(٣)اسرارفدک،  ص:٢١                بحارالانوارج:٢١           ص:٢٢
(٤)اسرار فدک، ص:٢١                بحار الانوارج:٢٩، ص:١٠٥،١١٠،١١٥،١١٨،١٢١،
 (٥)بحار الانوارج:٢١     ص:٢٣          اسرارفدک، ص:٢٢
(٦)اسرارفدک،  ص:٢٢
(٧)بحارالانوارج:٢٩ ص:١١٨  اسرارفدک       ص:٢٢
(٨)بحارالانوارج:٢٩ ص:١٢٣  ح:٢٥      اسرارفدک ص:٢٢
(٩)اسرارفدک         ص:٢٢
(١٠)شرح ابن ابی الحدید معتزلی ج:١٦    ص:١٦٣  اسرار فدک ۔ص:٢٣     
(١١)مجمع الزوائد، ج:٩   ص:٣٩          اسرار فدک            ص:٢٨   
(١٢)بحار الانوار ج:٢١    ص:٢٣          نوائب الدھورج:٣     ص:١٤٨ 
عوالم العلوم، ج:١١ ص:٥٧٤         مجمع النورین ص:٣٧   اسرار فدک ص:٢٨ 
(١٣)اسرار فدک      ص:٢٩   
(١٤)سورہ ٔروم/٣٨
(١٥)سورہ ٔانفال/٤١ 
(١٦)سورۂ شوریٰ/٢٣     
(١٧)سورہ توبہ/٦٠
(١٨)بحار الانوارج:٢٩     ص:١٣٤  کتاب سلیم ج:٢        ص:٨٦٨      اسرارفدک ص:٤١
(١٩)بحارالانوارج:٢٩      ص:١٩٢  اسرارفدک       ص:٤١




آل محمد ص، بنیاد دین: ضیاء الافاضل مولانا سید غافر رضوی

 

آل محمدؐ "بنیاد دین"

 ضیاء الافاضل مولانا سید غافر رضوی چھولسی

     ہر چیزاپنی  ''بنیاد،،  پر ٹھہری ہوئی ہے۔ اگر ''بنیاد ،،  نہ ہو تو کوئی بھی چیز سلامت نہیں رہ سکتی ۔ یہ آسمان سے منھ در منھ باتیں کرتی ہوئی عمارتیں [ buildings ]
کس چیز کے بلبوتہ پر قائم ہیں ؟  ''بنیاد،،  نہ ہوتی تو یہ عمارتیں کس طرح باقی رہتیں؟  ''بنیاد،،  کی اہمیت کا اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں ہے بلکہ بہت آسان ہے چونکہ اس کا اندازہ لگانے والے کی بھی ایک  ''بنیاد،،  ہے۔
    اس بات کا اندازہ صرف اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اگر کوئی انسان بے معنیٰ بات کرتا ہے تو اس سے یہی کہا جاتا ہے کہ بھائی "بے بنیاد" بات مت کرو  ''یعنی ایک عاقل انسان کی پہچان یہ ہے کہ اگروہ کوئی بات کہتا ہے تو اس کی بھی  ''بنیاد ،،  ہوتی ہے بغیر بیخ و بنیاد کے کوئی بھی بات نہیں کہتا ،،  اور اس  ''بنیاد،،  کی زیادہ اہمیت سمجھنے کے لئے یہ کہونگا کہ اگر  ''بنیاد ،،  صحیح ہے تو عرشہ تک عمارت صحیح ہوگی اور اگر  ''بنیاد،،  ہی غلط رکھی گئی تو پھر کتنی بھی سدھارنے کی کوشش کیجئے وہ سدھر نہیں سکتی مزید بگڑنے کے امکانات زیادہ پائے جاتے ہیں ۔
ایک فارسی شاعر نے کتنی اچھی بات کہی ہے :۔
خشت اول چون نہد معمار کج     تا ثریا   می رود   دیوار کج
    ایک معمار اگر  ''بنیاد ،،  کی پہلی اینٹ ٹیڑھی رکھے گا تو دیوار اپنی بلندیوں تک ٹیڑھی ہی رہے گی چاہے اسے کتنی ہی بلندیوں تک لے جائیں  ''لہٰذا ہر بنیاد رکھنے والے معمار کو چاہیئے کہ  ''بنیاد،،  سوچ سمجھہ کر رکھے ایسا نہ ہو کہ کوئی نقص باقی رہ جائے،،               
چونکہ یہ نقص آخر تک نقصان دے گا ۔ اور یہ  ''بنیاد ،  صرف عمارت سے ہی مخصوص نہیں بلکہ ہر چیز کی  ''بنیاد،،  رکھتے وقت یہ سوچنا چا ہیئےکہ بنیاد کیسے رکھیں اور کیسی ہونی چاہیئے ؟یہاں تک کہ جولوگ وسیلہ کے قائل نہیں ہیں وہ بھی  ''بنیاد،،  کے قائل ہیں ۔ حالانکہ  ''بنیاد،،  بھی ایک وسیلہ ہے ۔ بنیاد کیسے وسیلہ ہے؟؟؟
   اگر ترقیوں سے ہمکنار ہوناہے تو  ''بنیاد،،  کو وسیلہ بنانا پڑے گا ۔ بغیر '' بنیاد ،، کے منزل مقصود تک پہونچ ہی نہیں سکتے ۔اور  '' بنیاد ،، من جمیع الجہات مستحکم و مضبوط ہونی چاہیئے چونکہ کھوکھلی  ''بنیاد،،  کسی بھی حالت میں قابل استفادہ نہیں !
  انسان اگر ایک چھوٹا سا کمرہ ۔ کمرہ بھی بہت بڑاہو گیا ، ایک غسل خانہ [حمام  bath room ] بنانا چاہتا ہے تو یہ کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ ''بنیاد،،  مضبوط ہونی چاہیئے چونکہ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں کہ اسے روزانہ تعمیر کراتے رہیں اور نہ ہی ہمارے گھر میں پیسوں یا ڈالرس کا درخت اگا ہوا ہے کہ اسی کو دیکھتے رہیں اور بھی بہت کام کرنے ہیں ۔
  اور اسی طرح عمارت جتنی بڑی ہوتی چلی جائے گی  ''بنیاد ،،  کے سلسلہ میںانسان کی فکر اتنی ہی زیادہ ہوتی چلی جائے گی ۔
    جب ایک معمولی سا انسان چھوٹی سے چھوٹی عمارت بنانے کے لئے یہ سوچتا ہے کہ  ''بنیاد ،، مستحکم ہونی چاہیئے تو جو اس انسان کا خالق (خالق کائنات )ہے وہ کسی چیز کو بغیر  ''بنیاد،،  کے کیسے چھوڑ سکتا ہے ۔آخر یہ اتنی بڑی عمارت دین کس بنیاد پر رکی ہوئی ہے ؟اس کی بنیاد کیا ہے اور کیسی ہے؟
    ایک جگہ رسول اسلام  ۖنے ارشاد فرمایا  ''الصلوٰة عمود الدین،،  نماز دین کا ستون ہے چونکہ ایک عمارت میں ستون کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے ۔یہ تو معلوم ہوگیا کہ نماز دین کا ستون ہے لیکن دین کی  ''بنیاد،،  کیا ہے؟پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔آئیے حلال مشکلات کے دروازہ پر دستک دیتے ہیں کہ اے عقدہ کشائے جہاں !ہماری مشکل کو حل کیجئے یہ بتائیے کہ دین کی ''بنیاد،، کیا ہے ؟کس چیز کی  ''بنیاد ،،  پر دین قائم ہے؟ مولائے کائنات آواز دینگے اے بے معرفت لوگو!بے بنیاد باتیں مت کرو تمھیں معلوم ہونا چاہیئے کہ جن ہستیوں کے صدقہ میں یہ کائنات بنی ہے وہی دین کی  ''بنیاد،،  ہیں یعنی  ''آل محمد بنیاد دین ہیں،،
   اسی عنوان پر رقم طرازی کی سعادت سے ہمکنار ہونے کی سعی کر رہا ہوں ؛امید ہے کہ مشکل کشائے دو جہاں کی مدد سے منزل مقصود تک رسائی ہو جائے گی ۔
   میں نے شیعہ شرحوں سے گریز کرتے ہوئے عالم عامہ  ''جناب ابن ابی الحدید معتزلی ،،  کی شرح سے استفادہ کیا ہے چونکہ چاہنے والے کی نظروں میں محبوب کی اچھائیاں ہی ہوتی ہیں اور وہ محبوب کی برائیوں سے صرف نظر کرتا ہے لیکن دشمن کی نظر صرف و صرف برائیوں پر ہوتی ہے اسے اچھا ئیاں نظر نہیں آتیں کمال تو اسی میں ہے کہ دشمن بھی تعریف کرے  ''الفضل ما شھدت بہ الاعداء،،   فضیلت وہی ہوتی ہے جس کی گواہی دشمن بھی دے ۔   
 مولائے کائنات آل رسول  ۖ کو  ''بنیاددین،،  بتاتے ہوئے اس طرح گویا ہیں :۔
  ھم موضع سرہ و لجاہ امرہ وعیبة علمہ و موئل حکمہ(اہل بیت نبوت علیھم السلام)اسرار الٰہی کے امین اس کے دین کی پناہ گاہ اس کے علم کے مخزن اور اس کی حکمتوں کے مر جع ہیں "یعنی اگر کسی کو خدائے حکیم کی حکمت میں ذرہ برابر بھی شک ہو تو ان کے در پر آئے یہ بتائیں گے کہ اس حکمت میں کیا حکمت پوشیدہ ہے"
   وکھوف کتبہ وجبال دینہ..... یہی ہیں آسمانی کتابوں کی گھاٹیاں ؛یہی ہیں دین الٰہی کے کوہ مستحکم؛  بھم اتام انحناء ظھرہ...خدا وند عالم نے انھیں کے ذریعہ اس  ''دین،،  کی خمیدہ پشت کو سیدھا کیا ؛     و اذھب ارتعام فرائصہ (انھیں کے ذریعہ خدا نے)اس  ''دین،،  کی ضعف و کمزوری سے پیدا ہوئی کپکپی دور کی ؛
   لا یقاس بآل محمد  ۖ من ھٰذہ الامةاحد..... اس امت میں سے کسی کو بھی آل محمد  ۖ پر قیاس نہیں کیا جا سکتا (چونکہ اس کے شرائط ہی نہیں پائے جاتے قیاس کے اسباب مفقود ہیں ؛ان کی برابری کون کر سکتا ہے ؟کون ان سے آنکھیں ملا سکتا ہے ؟کس میں اتنی ہمت ہے کہ ان کے برابر آئے؟)
    ولایسوی بھم من جرت نعمتھم علیہ ابدا.... وہ لوگ ان کی برابری کیسے کر سکتے ہیں ؟جن پر ان ہستیوں کا ہمیشہ احسان رہا؛  ھم اساس الدین وعماد الیقین الیھم............. اہلبیت رسالت علیھم السلام  ''بنیاددین،،  اور  ''یقین دین،،  ہیں ۔
    اس جملہ کی وضاحت عالم عامہ جناب ابی الحدید معتزلی اس طرح کرتے ہیں کہ دین صرف انھیں (اہلبیت نبوت )کی وجہ سے قائم ہے بالکل اسی طرح جس طرح زمین پہاڑوں کی وجہ سے؛ کہ اگر پہاڑ نہ ہو تے تو زمین اپنے اوپر رہنے والوں کو نگل جاتی[١]
   جو آگے بڑھ گیا ہے اسے انھیں کی طرف پلٹ کر آنا ہے اور جو پیچھے رہ گیا ہے اسے آگے آکر انھیں سے ملنا ہے ۔ولایت انھیں کا حق مسلم ہے اور انھیں سے مخصوص ہے انھیں کے بارے میں پیغمبر کی وصیت اور انھیں کے لئے رسول اسلام  ۖکی وراثت ہے ۔
   آگے ارشاد فرماتے ہیں :۔ الآن اذا رجع الحق الیٰ اھلہ و نقل الیٰ منتقلہ...... یہ وہ وقت ہے کہ حق حقدار تک پہونچ گیا اور اپنی صحیح جگہ پر منتقل ہو گیا [٢]
  وضاحت:۔مو لائے کائنات اھلبیت رسالت علیھم السلام کی شان میں فر ما رہے ہیں کہ (دنیا کی کسی فرد کو ان پر قیاس نہیں کیا جا سکتا ) کیونکہ دنیا ان کے احسا نات کے نیچے د بی ہو ئی ہے اور انھیں سے نعمت ہدایت پاکر اخروی نعمتوں کی مستحق قرار پائی ہے یہ ہستیاں دین کی ''بنیاد،،  اور اسکی زندگی کا سہارا ہیں ،  یہ علم و یقین کے ایسے مستحکم ستون ہیں کہ شک و شبھات کے طوفان و حوادث کا دھارا موڑ سکتے ہیں اور یہ ہی ہستیاں افراط و تفریط کی دنیا میں درمیانی راستہ ہیں کہ اگر کوئی غلو کی حد تک پہونچ جائے یا کو تاہی سے کام لینے لگے تو جب تک راہ اعتدال پر نہیں آئے گا اسلام کی راہ پر گامزن ہو ہی نہیں سکتا ۔اور انھیں میں وہ تمام خصو صیتیں پائی جاتی ہیں جو امامت و قیادت میں ان کے حق کو فائق قرار دیتی ہیں۔ لھٰذاان کے علاوہ کسی کو بھی امت کی سر پرستی کا حق نہیں ہے .....یہی تو وجہ ہے کہ رسول اسلام  ۖ نے اپنا وصی و جانشین انھیں ہستیوں کو مقرر فرمایا ۔
   ابی الحدید معتزلی کہتے ہیں :۔ ولایت کا حق صرف رسول اسلام  ۖ کو ہے لیکن شیعہ حضرات آل رسول کو بھی اسی میں شامل کر تے ہیں  رہی وصایت کی بات تو ہم بھی اس کے قائل ہیں کہ علی وصی رسول  ۖ ہیں .....اگر چہ اس میں بھی اختلاف ہے [٣]
   اب آئیے وراثت کو دیکھتے ہیں شیعہ حضرات اس بات کے قائل ہیں کہ وراثت سے مراد مال اور خلافت ہے  ''ونحن(ابی الحدید)نحملھا علیٰ وراثة العلم ،،  اور ہم اس وراثت سے مراد وراثت علم کو لیتے ہیں [٤]
    ہاں جناب معتزلی صاحب اگر آپ وراثت سے وراثت علم مراد لیتے ہیں تو پھر بھی اس کا یہی مطلب نکل کر سامنے آتا ہے کہ نیابت رسول  ۖکاحق اہلبیت علیھم السلام کے علاوہ کسی کو نہیں پہونچتا چونکہ خلافت کے لئے  ''بنیادی،،  شرط علم ہے اگر خلیفہ رسول ہی جاہل ہوگا تو امت کو جہالت و نادانی کی تاریکی سے کیسے نجات دے گا؟
   ابی الحدید مولائے کائنات کے اس جملہ  ''الآن اذا رجع الحق الیٰ اھلہ،،  کی وضاحت اس طرح کرتے ہیں کہ ابھی تک یہ حق نا اھل کے پاس تھا اور اسکی تاویل ہم (ابن ابی الحدید)اس طرح کرتے ہیں کہ علی و اولاد علی علیھم السلام اس منصب کے حقدار زیادہ ہیں لیکن نص و حدیث کی بنیاد پر نہیں بلکہ افضلیت کی بنیاد پر چونکہ بعد رسول  ۖ علی علیہ السلام تمام انسانوں سے افضل ہیں اور خلافت کے زیادہ حقدار۔ ہیں آپ نے مصلحت وقت کی  ''بنیاد،،   پر اپنا حق نہیں لیا چونکہ اگر اس وقت تلوار اٹھا لیتے تو اسلام کا شیرازہ بکھرکر رہ جاتا [٥]
   جناب معتزلی صاحب نص ماننے کو تیار نہیں ہیں حالانکہ ایک سے ایک معتبر حدیث موجود ہے اب بتائییے ہم اسمیں کیا کر سکتے ہیں ایک انسان جب ہٹ دھرمی پر اتر آئے کچھ سننے کو تیار نہ ہو تو خدا سے بھی انکار کر بیٹھتا ہے ، رسول و آل رسول علیھم السلام تو پھر بھی خدا کے بندے ہیں ۔
   آگے وضاحت دیتے ہوئے ابی الحدید کہتے ہیں :۔کہ آل محمد  ۖکوکسی پر قیاس نہیں کیا جا سکتا یہ بات بالکل صحیح ہے چونکہ جو احسان کر رہا ہے اور جس پر احسان کیا جا رہا ہے وہ برابر نہیں ہو سکتے اس بارے میں کہا گیا ہے کہ  ''لا شبھة ان المنعم اعلیٰ و اشرف من المنعم علیہ ولا ریب ان محمدا  ۖ....اس میں کوئی شک نہیں کہ نعمت دینے والا اس سے بہتر ہے جس کو نعمت دے رہا ہے اور بے شک جو منعم ہیں وہ محمد و آل محمد علیھم السلام ہیں اور خصوصاََعلی ابن ابی طالب علیھما السلام کہ جنھوں نے خلق خدا کو اتنی نعمات سے نوازا کہ انھیں کسی چیز کی ضرورت نہیں پڑی اور اس نعمت کا احصا نہیں کیا جا سکتا اور وہ نعمت سب سے بڑی نعمت  ''الدعاء الیٰ الاسلام،،   اسلام کی طرف دعوت دینااور اس کی طرف ہدایت کرنا ہے ۔
   اگر چہ محمد مصطفی  ۖنے خلق خدا کی ہدایت کی اور اپنی زبان مبارک سے اسلام کی طرف دعوت دی اور اپنے پورے وجود کے ساتھ راہ اسلام پر گامزن رہے اور خدا نے اپنے ملائکہ کے ذریعہ آپ کی نصرت فرمائی اور آ پ سید و سردار ہدایت ہیں کہ جن کی اطاعت واجب ہے
   علی نے بھی ہدایت کی لیکن ہدایت کے ساتھ ساتھ دو عدد جہاد بھی کئے ایک  ''جھاد باالسیف،،   اور ایک   ''علوم و تفسیر قرآن کو پھیلانے کا جھاد،،[٦]
   ایک جگہ آل رسول علیھم السلام کو  ''بنیاد دین،،  بتاتے ہوئے مولائے کائنات ارشاد فرماتے ہیں
  بنا اھتدیتم فی الظلماء.......ہماری وجہ سے تم نے گمراہی کی تاریک فضا میں ہدایت کی روشنی پائی   و تسنمتم العلیاء .اور رفعت و بلندی کی چوٹیوں پر قدم رکھا "لیکن یاد رہے کہ اگر انسان کا پختہ ارادہ ہو تو شہرت کے بلند و بالا پہاڑ کی چوٹی پر چڑھنا کوئی مشکل کام نہیں .......بلکہ اس پر چڑھنے کے بعد سیسا پلائی ہوئی دیوار کی مانند ثابت قدم رہنا عین کمال کی دلیل ہے ............چونکہ جتنا آسان وہاں تک پہونچنا ہے اس سے کہیں زیادہ سہل تنزلی جیسے صیاد کے دام فریب میں پھنس کر پستی کی وادیوں کی سیر ہوتی ہے"
   آگے ارشاد ہوتا ہے :۔بنا انفجرتم عن السرار وقر سمع لم یفقہ الواعیة ..... ''تم لوگ،،  ہمارے سبب سے اندھیری رات کی گھاٹیوں سے میدان صبح  ''ہدایت،،   کے اجالوں میں آگئے .........بہرے ہوجائیں وہ کان جو چیخنے چلانے والے کی آواز کو  ''سن کر بھی،،   نہ سن سکیں "اوراسے ان سنی کردیں"
   بھلا وہ لوگ میری کمزو راور دھیمی آوازکو کیسے سن سکتے ہیں ؟جو خدا ورسول کی بلند آواز وںکونہیں سنتے......آگے ایک قیامت خیز جملہ فرماتے ہیں .........مازلت انتظر بکم عواقب الغدر ........میں تم سے ہمیشہ فریب و مکاری اور دھوکہ دھڑی کے نتائج کا منتظر رہا ۔
   اقمت لکم علیٰ سنن الحق فی جوار المضلة ........میں تمھاری خاطر بھٹکانے اور گمراہ کرنے والی راہوں پر جادہ حق  ''سر حد حق،،   پر کھڑا تھا جہاں تم ملتے ملاتے تھے مگر کوئی راہ دکھنے والا نہیں تھا تم کنواں کھودتے تھے مگر پانی نہیں نکلتا تھا [٧]
   آخر مولا یہ کیوں فرما رہے ہیں ؟کیا یہ احسان جتانا نہیں ہوا؟کہ تم پیاسے مر رہے تھے مینے ہی تمھیں سیراب کیا ؟نہیں عزیزو!جو انسان دوسروں کو منع کرتا ہو کہ اگر کسی کے ساتھ نیک برتائو کروتو اس احسان کو اپنی زبان پر نہ آنے دو اگر کسی کو ایک ہاتھ سے دو تو دوسرے ہاتھ کو پتہ بھی نہ چلنے دو .....وہ خود کس طرح احسان جتا سکتا ہے ؟
  یہ صرف وصرف گمراہوں کو ہوش میں لانے کا ذریعہ ہے اور جو راہ حق پر گامزن ہیں انھیں یاد دہانی کرائی جا رہی ہے ....کہ اگر تم ہدایت یافتہ ہو تو صرف ہماری وجہ سے ....."اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگرتم پر کوئی احسان کرے تو اس کے احسان کو فراموش نہ کرو اپنے محسن کو ہمیشہ یاد رکھو"
   ابن ابی الحدید معتزلی کہتے ہیں کہ مولا نے اپنے کلام میں استعارے استعمال کئے ہیں تاکہ قوم تک ا پنا پیغام آسانی سے پہونچا دیں قوم کے لئے کوئی بہانا باقی نہیں رہے[٨]
   ایک جگہ مولا ''بنیاد دین،،  کو واضح طور پر بیان فرماتے ہوئے گویا ہیں :۔انظروا اھلبیت نبیکم فالزموا و سمعتھم
  اپنے نبی  ۖ کے اھل بیت علیھم السلام کو دیکھو ان کی سیرت پر چلو "مولانے   ''اپنے نبی،،  کیوں فرمایا ؟کیا رسول اسلام  ۖ  مولا علی کے لئے نبی  ۖ نہیں تھے؟ یہ اس لئے فرمایا تاکہ یہ شبھہ نہ پیدا ہوجائے کہ علی نے ایسا اس لئے کہا ہے چونکہ نبی  ۖ سے ان کی رشتہ داری ہے ایک داماد ہونے کے ناطہ ایسا کہا ہے"
   ان کے نقش قدم پر اپنے قدم رکھو  ''اگر تم ایسا کروگے،،  تو اہلبیت علیھم السلام تمھیں بالکل بھی راہ ہدایت سے نہیں بھٹکنے دینگے ......... . اگر وہ کہیں ٹھہریں تو تم بھی ٹھہر جائو اور اگر وہ کھڑے ہوجائیں تو تم بھی کھڑے ہوجائو ۔
    اہلبیت علیھم السلام سے آگے نکلنے کی کوشش بھی مت کرنا ورنہ گمراہ ہوجائوگے ...انھیں چھوڑ کر پیچھے بھی مت رہ جانا کہ تباہ و برباد ہو جائو گے اور ہلاکت کے دہانے پر پہونچ جائو گے[٩]
   امیرالمو منین  نے ان چند فقروں میں بہت کچھہ کہہ دیا کتنے سبق دے دئے مولا نے ان کلمات میں ؟
  ١۔انظروا اھلبیت نبیکم....اپنے نبی  ۖ کے اہل بیت علیھم السلام کو دیکھو .......چونکہ انھیں دیکھنا عبادت ہے اس چھوٹے سے فقرہ کے ذریعہ مولا نے عبادت کی دعوت دی ہے ۔
  ٢۔فالزمواوسمعتھم...کہہ کر اہل بیت علیھم السلام کی اطاعت کی دعوت دی ہے۔
  ٣۔اہل بیت علیھم السلام سے آگے نہ نکلنا.... کہہ کران کے رتبہ کو بتایاکہ یہ ہستیاں کس رتبہ کی حامل ہیں ۔
  ٤۔ان کے پیچھے بھی مت رہنا....کہہ کر سمجھایا کہ ظلم و تشدد کی تاریکی تم پر غالب نہ آجائے چونکہ اھل بیت علیھم السلام کو چھوڑکر تاریکی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
  ایک خطبہ میں اس طرح ارشاد فرما تے ہیں :۔ بنا یستعطی الھدیٰ و یستجلیٰ العمیٰ ....وہ ہمیں تو ہیں جن سے ہدایت طلب کی جا سکتی ہے اور گمراہی کی تاریکیوں کو چھانٹنے کی خوا ہش کی جا سکتی ہے ۔
  ان الائمة من قرش غرسوا فی ھذا البطن من ھاشم......بے شک تمام ائمہ علیھم السلام قریش سے ہونگے جو اسی قبیلہ کی ایک شاخ بنی ہاشم کی کشت زار سے ابھریں گے ۔
   لا تصلح علیٰ سواھم ولا تصلح الولاة من غیرھم .....نہ توامامت بنی ہاشم کے علاوہ کسی کو زیب دیتی ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا اس کا اہل ہو سکتا ہے اہل بیت ہی اصل حقدار امامت ہیں امامت انھیں کا حق ہے[١٠]
  "ان جملوں میں جہاں یہ بتایا ہے کہ رسول  ۖو آل رسول علیھم السلام ہی منبع ہدایت ہیں یہی  ''بنیاد دین،،  ہیں وہیں یہ بھی واضح طور پر بیان فرمایا ہے کہ دیکھو امامت صرف قریش کا حق ہے کسی اور کو اپنا امام نہ بنا لینا امامت کے اصل حقدار قریش ہیں انھیں پر امامت جچتی ہے  اگران کے علاوہ کسی کو امام بنائو گے تو یہ عھدہ نا اھل کے ہاتھ میں جائے گا اور یہ ظلم ہے چونکہ ظلم کی تعریف یہی ہے  ''وضع الشئی علیٰ غیر محلہ،، کسی چیز کو اس کی اصل جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھنا ظلم ہے خدارا یہ ظلم نہ کرو"
    ابن ابی الحدید معتزلی  ''بنا یستعطی الھدیٰ ،،  کی توضیح اس طرح کرتے ہیں کہ اگر ان سے طلب کیا جائے تو یہ عطا کریں گے کوئی ان سے مانگ کر تو دیکھے مانگنے والے کو اس کے دامن سے بھی سوا دیتے ہیں  ''انھوں نے تو اپنے قاتل کو بھی خالی ہاتھہ نہیں پلٹایا۔
والسلام :
ضیاء الافاضل مولانا سید غافرحسن رضوی چھولسی "ھندی"
       قم المقدسہ ایران
     منابع و ما خذ اور حوالہ جات:۔
   ١۔ شرح نھج البلاغہ ابن ابی الحدید معتزلی   ''ج۔١  ،،  ''ص ۔١٣٨  ،،
     ٢۔ نھج البلاغہ  ''خطبہ ۔٢  ،،  چاپ  انتشارات اسلامی
   ٣۔ ابن ابی الحدید معتزلی   ''ج۔١  ،،  ''ص۔١٣٩  ،،
   ٤۔ ابن ابی الحدید معتزلی   ''ج۔ ١  ،،  ''ص ۔ ١٤٠  ،،
   ٥۔ ابن ابی الحدیدمعتزلی   ''ج۔١  ،،  ''ص۔١٤٠  ،،
   ٦۔ ابن ابی الحدید معتزلی   ''ج۔١  ،،  ''ص۔١٤١  ،،
   ٧۔ نھج البلاغہ  ''خطبہ۔٤  ،،انتشارات اسلامی
   ٨۔ ابن ابی الحدید معتزلی  ''ج۔١  ،،  ص۔٢١٠  ،،
   ٩۔ نھج البلاغہ   ''خطبہ ۔٩٧   ،،ٰ
   ١٠۔ نھج البلاغہ  ''خطبہ ۔١٤٤   ،،
   ١١۔ ابن ابی الحدید معتزلی   ''ج۔٩  ،،   ص۔٨٦  ،،
  والسلام : ضیاء الافاضل مولاناسید غافر حسن رضوی 
                                     

امام حسین ع کے خطبات: ضیاء الافاضل مولانا سید غافر رضوی

 امام حسین(ع) کے خطبات اور مقصد قیام
ضیاء الافاضل مولانا سید غافر رضوی

کوئی انسان اگر قیام کرتا ہے تو اس کے قیام میں کچھ اہداف و مقاصد پوشیدہ ہوتے ہیں ،کوئی بھی قیام ہو ،کیسا بھی قیام ہو،رموز و اسرار اور اہداف و مقاصد سے خالی نہیں ہوتا ،یہ اور بات ہے کہ مقصد کس حیثیت کا حامل ہے؟ بہر حال قیام کرنے والے کے نزدیک قیام کا ایک ہدف ہوتا ہے،مثلاََ گاندھی جی نے قیام کیا تو آپ کے قیام کا مقصد'' ہندوستان ''کو انگریزوں کے چنگل سے آزادکرانا تھا ،چاہے اس راہ میں کتنی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے چونکہ گاندھی جی کے نزدیک مقصد قیام اہم تھا لہٰذامشکلوں کے پہاڑ ،پانی نظر آرہے تھے۔
 اسی طرح امام خمینی نے قیام کیا ،آپ کے مقصد کا قیام یہ تھا کہ عیاش اور ظالم شاہ کا تختہ پلٹ دیں اور ایران میں اسلامی پرچم لہرائے ،چنانچہ اس ہدف میں کامیاب بھی ہوئے ،آخر امام خمینی  نے ایسا قیام کیوں کیا؟امام خمینی  نے امام حسین  سے یہ درس لیا تھا کہ اگر حلال کو حرام اور حرام کو حلال شمار کیا جانے لگے تو خاموش نہ رہنا بلکہ اس کے خلاف آواز احتجاج بلند کرنا ۔
جب ایک عام انسان کے قیام میں ایک ہدف اور مقصد پوشیدہ ہوتا ہے تو امام وقت کا قیام بغیر مقصد،اور ہدف سے خالی کیسے ہوسکتا ہے؟ کیا امام حسین کا قیام ایک انفجار تھا ،کیا آپ  کا قیام نا آگاہانہ تھا؟مثلاََ ایک دیگ میں پانی بھر کر اسے سیل بند کرکے چولھے پر چڑھا دیا جائے تو ایک وقت ایسا آئے گا کہ ابخارات کو برداشت نہ کرتے ہوئے ،دیگ منفجر ہو جائے گی ،کیا قیام امام حسین  اسی دیگ کی مانند تھا؟یا امام حسین  عام انسانوں کی مانند تھے کہ پیمانۂ صبر لبریز ہو گیا تو جو کلمات زبان پر جاری نہیں ہونے چاہیئیں تھے وہ بھی زبان پر آگئے ،جو دل چاہا زبان سے کہہ ڈالا ؟ نہیں عزیزو!آپ کا قیام کوئی ایسا ویسا قیام نہیں تھا بلکہ آپ  کا قیام ،با مقصد تھا ،جس کی طرف آپ  نے جگہ جگہ اشارہ فرمایا ہے تحف العقول میں ایک مفصل حدیث موجود ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ  کا قیام کمال مقصد کو پہونچا ہوا تھا[١]
بعض مفکرین مثلاََ مارٹین آلمانی وغیرہ ،قیام حسینی کا پہلا مقصد اظہار سیاست حسین  کو شمار کرتے ہیں[٢]
شاید!ان مفکروں کا مقصد یہ ہو کہ اگر امام حسین  اپنی سیاست کا اظہار نہیں فرماتے تھے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ  سیاست نہیں جانتے تھے بلکہ اگر آپ چاہتے تو معاویہ کی سیاست کو خاک چٹا دیتے۔
حق یہ ہے کہ قیام حسینی کا مقصد عوام الناس اور شیعیان علی کو کافرو طاغی بنی امیہ اور یزید نحس کے چنگل سے نجات دلانا ہے اور امر با لمعروف و نہی عن المنکراور ابطال باطل کرنا ہے ،آپ فرماتے ہیں:ألا ترون الیٰ الحق لا یعمل بہ و الیٰ الباطل لا یتناھیٰ عنہ لیرغب المومن فی لقاء اللہ فأنی لا أریٰ الموت الا سعادة والحیاة مع الظالمین الا برما[٣]
کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ حق پر عمل نہیں ہو رہا ہے اور باطل سے دستبرداری نہیں ہو رہی ہے ؟ایسے میں مومن موت کی تمنا کر تا ہے ،پس میں موت کو سعادت اور ظالموں کے ساتھ زندہ رہنے کو ذلت و بد بختی کے علاوہ کچھ نہیں سمجھتا۔
جب خلافت ،تخت خلافت کے غاصب معاویہ بن ابو سفیان سے منتقل ہوکر یزید ملعون تک پہونچی تو سیاسی و اجتماعی حالات اس قدر خطر ناک ہو چکے تھے کہ لوگ حکومت سے بر خورد و معاشرت کرتے ہوئے گھبراتے تھے چونکہ ان کے ہر معمولی سے معمولی اعتراض کے جواب میں شمشیر برہنہ سے سلامی دی جاتی تھی یعنی معمولی سی انگشت نمائی پر گردن کشی ہو جاتی تھی،لہٰذا کسی میں انگشت اعتراض بلند کرنے کی جرأت نہیں ہوتی تھی ،بادشاہ وقت ....قمار بازی،شراب نوشی میں مشغول رہتا تھا،بندر سے کھیلتا رہتا تھا ۔لیکن کوئی انسان بھی اس پر کسی طرح کا اعتراض نہیں کرتا تھا چونکہ سب کو اپنی اپنی جان پیاری تھی،جب علی  کے لعل امام حسین  نے احکام اسلامی کو پامال ہوتے دیکھا تو فوراََ قیام کیا ، زمین و آسمان کا ایک ہو جانا ممکن ہے لیکن حسین  یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ فرامین الٰہی کو پس پشت ڈال دیا جائے[٤]
محمد حنفیہ کو وصیت تحریر کرتے ہوئے امام حسین  اپنے مقصد قیام کو اس طرح بیان فرماتے ہیں :أنی لم اخرج اشراََولا بطرا ولا مفسداََولا ظالماََ وأنما خرجت لطلب الاصلاح فی امة جدی ارید ان آمر با لمعروف وانھیٰ عن المنکر و اسیر بسیرة جدی و ابی علی ابن ابی طالب علیھما السلام [٥]
میں تفریح ،خود غرضی،فساداور ستم کی خاطر خارج نہیں ہو رہا ہوںبلکہ میرے قیام کا مقصد اپنے نانا جان کی امت کی اصلاح ہے اور امر بالمعروف و نھی عن المنکرکرنے جا رہا ہوں اور اپنے نانا نبی ۖاور اپنے بابا علی کی سیرت پر عمل پیرا ہونے جا رہا ہوں۔
حجة الاسلام جناب محمد محمدی اشتہاردی صاحب اس عبارت کو اس طرح نقل فرماتے ہیں:أنی لم اخرج اشراََولا بطراََ ولا مفسداََ ولا ظالماََ وانما خرجت لطلب الاصلاح فی امة جدی و شیعة ابی علی ابن ابی طالب علیھما السلام[٦]
میں خود غرضی،دھوکہ دھڑی،فساداور ستم و بیداد کیلئے قیام نہیں کر رہا ہوں بلکہ اپنے نا نا جان کی امت اور اپنے بابا علی ابن ابی طالب  کے شیعوں کی اصلاح کے لئے جا رہا ہوں ۔   
مکہ سے خارج ہونے سے پہلے اپنے اصحاب کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :من باذلاََ فینا مھجتہ و موطناََ علیٰ لقاء اللہ نفسہ فلیر حل فأ نی راحل مصبحاََ انشاء اللہ [٧]
جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اپنا خون مجھ پر بہائے وہ ہمارے ساتھ نکلے کہ میں کل صبح''انشاء اللہ'' خدا کی راہ پر گامزن ہوں گا۔
حجة الاسلام سید عبد الزاق مقرّم نے اس جملہ(أنی لم اخرج اشراََ........)کا ترجمہ اس طرح بیان کیا ہے:میں خود خواہی،حق سے سر پیچی ، فساداور ستم گری کیلئے مدینہ سے خارج نہیں ہو رہا ہوں بلکہ اس سفر سے میرا قصد امر بالمعروف و نھی عن المنکر اور اپنے جد محمد ۖ کی امت کے مفاسدات کی اصلاح کرنا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اپنے جد محمدۖ کی سنت اور اپنے بابا علی  کی سیرت کو زندہ کروں [٨]
امام حسین آزاد تھے ،جس وقت بھی،جس جگہ بھی چاہتے سفر کا ارادہ ملتوی کر سکتے تھے ۔جیسا کہ عوام الناس ذراسا خطرہ محسوس کرتے ہوئے سفر سے باز آجاتے ہیں ،لیکن یہ امت کے پیشوا ہیں ،انھیں تو وراثت میں شجاعت ملی ہے ،موت ان پر آپڑے یا یہ موت پر جا پڑیں ،کوئی پرواہ نہیں ہے [٩]
مکہ میں ایک خطبہ ارشاد فرماتے ہیں ،جس میں سفر کا وقت ،شہادت،یہی نہیں بلکہ جزئیات شہادت کو بھی واضح طور پر بیان فرمادیا تاکہ جو آپ  سے جدا ہونا چاہتا ہے وہ یہیں سے جدا ہو جائے اس دھوکہ میں نہ رہے کہ مال غنیمت حاصل ہوگا اور جن لوگوں نے پختہ ارادہ کر لیا ہے وہ ہمارے ہمراہ رہیں[١٠]
امام حسین  کا قیام قرآن مجید کے مخالف تھا یا موافق؟
رسول خداۖ نے ارشاد فرمایا :انی تارک فیکم ما ان تمسکتم بہ لن تضلوا بعدی احدھما اعظم من الآخر ،کتاب اللہ حبل ممدود من السماء الیٰ الارض و عترتی اھلبیتی لن یفترقا حتیٰ یرد علیّ الحوض[١١]
میں تمھارے درمیان دو چیزیں امانتاََ چھوڑے جا رہا ہوں ،جب تک تم لوگ ان سے متمسک رہوگے ،ہر گز گمراہ نہ ہوگے ،ان میں سے ہر ایک دوسری سے بڑی ہے ،کتاب خدا کہ جو ریسمان رحمت ہے آسمان سے زمین کی طرف،دوسرے میرے اہلبیت  ہیں،یہ دونوں ہر گز جدا نہ ہونگے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے آملیں(اسی مضمون کی دوسری حدیثیں الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ موجود ہیں)
پہلی دلیل :یہ قول صادق رسول کا قول ہے، ''ان ھو الا وحی یوحی''کے مصداق کا قول ہے ،یہ تو جھوٹ بول ہی نہیں سکتے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ دونوں چیزیں محشر تک ساتھ رہیں گی ،اگر حسین نے قرآن کے خلاف قیام کیا تو حدیث نبویۖ معاذ اللہ جھوٹی ہو جائے گی اور حدیث جھوٹی ہو نہیں سکتی لہٰذا ثابت ہوا کہ حسین  نے قرآن کے مطابق قیام کیا تھا۔
دوسری دلیل : آپ  کا سر مبارک تن سے جدا کرکے نوک نیزہ پر بلند کیا گیا مگر پھر بھی مسلسل قرآن کی تلاوت ہو رہی ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امام حسین  لحظہ بھر کے لئے بھی قرآن سے جدا نہیں ہو ئے۔
 تیسری دلیل: خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے:الذین آمنوا یقاتلون فی سبیل اللہ والذین کفروا یقاتلون فی سبیل الطاغوت فقاتلوا اولیاء الشیطان ان کید الشیطان کان ضعیفاََ[١٢]
وہ لوگ جو ایمان لے آئے وہ راہ خدا میں قتال کرتے ہیں اور جو کافر ہو گئے وہ بت اور طاغوت و شیطان کی راہ میں قتال کرتے ہیں پس اولیاء شیطان سے جنگ کرو ،بے شک شیطان کا حربہ اور اس کی چال کمزور ہے۔
خالق کائنات پہلے تو مومن اور کافر کی صفت بیان فرمارہا ہے کہ مومن کیا کام کر تا ہے اور کافر کا کیا کام ہے ،اس کے بعد حکم دے رہا ہے کہ شیطان کے مریدوں سے جنگ کرو ۔آیۂ کریمہ میں مومن سے مراد اہلبیت علیھم السلام ہیں ،اس پر مفسرین کا اجماع ہے اور جب قرآن کی نظر میں اہلبیت مومن ہیں تو ان کے مقابلہ پر آنے والا لا محالہ کافر ہوگا اور مومن کو خدا حکم دے رہا ہے کہ شیطان کے مریدوں سے جنگ کرو ،چنانچہ اہلبیت کی ایک فرد (امام حسین )نے جب یہ دیکھا کہ لوگ خدا کو بھول بیٹھے ہیں اور شیطان کی پرستش کی جارہی ہے تو آپ  نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر شیطان مجسم کے مقابلہ میں قیام کیا .........یہ اللہ کے نمائندے ہیں کسی بھی حال میں شیطان کی اطاعت نہیں ہونے دیں گے اور اس کے حربہ کو نا کام کرکے دم لیں گے ،چنانچہ ایسا ہی ہوا ،سر تن سے جدا ہو گیا ،ناموس کی بے حرمتی ہوئی،لیکن یزید کو اس کے نا پاک ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دیا اور اپنے مقصد قیام کو پورا کر کے دین اسلام کو سرخرو کر دیا ۔
پالنے والے ہم شیعیان حسین  کو بھی نقش قدم حسینی پر گامزن فرما۔
آمین
                                                                 والسلا م مع الاحترام:۔
                                     ضیاء الافاضل مولانا سید غافر حسن رضوی چھولسی
   حوالہ جات [منابع وماخذ:]
١۔مجموعہ آثار شہید مطھری/ج:١٧       ص:١٣٨[حماسہ حسینی]
٢۔مجموعہ آثار شہید مطھری/ ج:١٧،ص:٥١٤[حماسہ حسینی]
٣۔سوگنامہ آل محمد/ص:٢٠٣  بحوالہ مثیر الاحزان/ص:٤٤  و  حلیة الاو لیائ/ج:٢       ص:٣٩  الحسین/ص:٨٩و٩٠
٤۔وصیتنامہ چھاردہ معصوم/ص:٨٣
٥۔مقتل ابو مخنف(ترجمہ فارسی)ص:٢٤  و سخنان حسین بن علی  /ص:٣٦  وصیتنامہ چھاردہ معصوم /ص:٧٨
٦۔سوگنامہ آل محمد/ص:١٩٨        
٧۔سوگنامہ کربلا(ترجمہ فارسی لھوف)ص:١١٤  سوگنامہ آل محمد/ص:١٩٩بحوالہ مثیر الاحزان/ص:٤١
٨۔مقتل مقرم(فارسی)ص:٢١٧              
٩۔سخنان حسین بن علی/ص:٩٠                       
١٠۔سخنان حسین بن علی/ص:٦٥
١١۔شیعہ پاسخ می دھد/ص:١٢بحوالہ ترمذی،سنن /ج:٥ ص:٦٦٣ش٣٧٧٨٨
١٢۔سورہ ٔ نساء/آیت :٧٦
 
افکار ضیاء. Afkar-e-Zia - Free Blogger Templates, Free Wordpress Themes - by Templates para novo blogger HD TV Watch Shows Online. Unblock through myspace proxy unblock, Songs by Christian Guitar Chords