جمعرات، 20 دسمبر، 2018

Biography (Zindagi Nama) of Maulana Syed Ghafir Rizvi Sb. Chhaulsi



سوانح عمری مولانا سید غافر رضوی چھولسی
مولانا سید غافر رضوی کا شمار پندرہویں صدی ہجری کے مفکرین، محققین، مصنفین، مترجمین، ادباء، اردو شعرا اور علمائے شیعہ میں ہوتا ہے نیز آپ سرزمین ہندوستان کےمسلم مذہبی رہنما ہیں۔   مذہبی ادارہ   پیام اسلام فاؤنڈیشن  آپ ہی کی زیر نگرانی ترقی کے مراحل طے کر رہا ہے۔


اجمالی خاکہ
چھولس کے افق پر پندرہویں صدی ہجری کا چمکتا ستارہ
مولانا موصوف کا نام نامی اسم گرامی: حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید غافر حسن رضوی صاحب قبلہ۔ (Maulana Syed Ghafir Hasan Rizvi Sb. Qibla) خطاب: "ضیاء الافاضل"۔ والد گرامی کا نام: سید احسن رضا رضوی۔ وطن: ہندوستان کے دارالسلطنت "دہلی" سے پینتالیس یا پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر سادات کی بستی "چھولس ۔ Chholas Sadat" کے نام سے معروف ہے۔ موصوف کے آباؤ و اجداد ایران کے سبزہ زار شہر "سبزوار" سے ہجرت کرکے ہندوستان آئے تھے اور ان کو چھولس کا مقام پسند آیا اور اس بستی میں رہائش اختیار کی۔ موصوف کا سلسلہ نسب امام رضا علیہ السلام تک پہنچتا ہے اسی لئے ان کا فیملی نام "رضوی" ہے۔  آپ مذہبی ادارہ پیام اسلام فاؤنڈیشن کے سیکریٹری ہیں، یہ ادارہ آپ کے بڑے بھائی مولانا سید ذاکر رضا چھولسی صاحب قبلہ نے ترویج و تشہیر انسانیت کے پیش نظر قائم کیا ہے۔
تاریخ ولادت
مولانا موصوف نے چھولس "Chholas Sadat" نامی سادات کی بستی میں عید کی خوشیوں کے موقع پر 21/شوال المکرم 1406ہجری (بمطابق: 02/01/1983) میں آنکھیں کھولیں۔ اس زمانہ میں چھولس کا ضلع "بلند شہر" تھا اس کے بعد یہ بستی ضلع غازی آباد میں شمار ہونے لگی اور حاضر میں اس بستی کو ضلع گوتم بدھ نگر "جس کا شارٹ کٹ جی بی نگر ہوتا ہے" یعنی نوئیڈا یا گریٹر نوئیڈا میں شمار کیا جاتا ہے۔ مولانا موصوف کے والدین کے بقول: مولانا کی زندگی کے ابتدائی ایام بہت نازک حالات سے گزرے اور امید زندگی کی لو مدھم پڑ چکی تھی لیکن چونکہ خداوندعالم کو ان کی ذات سے اسلام کی تبلیغ درکار تھی لہٰذا ہوا نے فانوس بن کر چراغ کی حفاظت کا ثبوت دیا۔
تقریری میدان
موصوف اردو زبان میں بہترین تقریر کرتے ہیں، متعدد بار تقریر سننے کا موقع فراہم ہوا؛ ایک مرتبہ مسجد باب العلم اوکھلا وہار (نئی دہلی) میں موصوف نے ایک نہایت عمدہ تقریر کی جس میں آپ نے فرمایا: "دہشت گردی کسی بھی مذہب میں جائز نہیں ہے؛ ہر مذہب دہشت گردی کی مخالفت کرتا ہے؛ جو لوگ دہشت گرد ہیں ان کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے؛ خداوند عالم نے سب کے لئے قوانین نافذ فرمائے ہیں لہذا ہم سب کو اس کے فرامین پر عمل پیرا ہونا چاہئے"۔

تبلیغی سرگرمیاں

یوں تو موصوف منبر سے وعظ و نصیحت میں بھی اپنی مثال آپ ہیں لیکن منبر کے علاوہ بھی ان کا جذبہ یہ ہے کہ بشریت کو زیادہ سے زیادہ راہ راست پر لایا جائے اور جو لوگ راہ ہدایت پر ہیں ان کو اسی راہ پر گامزن رکھا جائے نیز ان کو بھٹکنے نہ دیا جائے؛ اسی مقصد کے پیشِ نظر آپ نے پیام اسلام فاؤنڈیشن کی نگرانی قبول کرتے ہوئے اسی کے ذریعہ اپنی وعظ و نصیحت کا سلسلہ جاری کیا مولانا کی کلیپس آپ کے یوٹیوب چینل پر دستیاب ہیں، آپ کی ایک کلیپ اتحاد کا حقیقی مفہوم،  ایک کلیپ ہفتہ وحدت کے عنوان سے،  اور ایک کلیپ معجزہ کا حقیقی مفہوم،  جیسے عناوین سرفہرست ہیں اس کے علاوہ عزاداری کے متعلق متعدد کلیپس اسی چینل پر دستیاب ہیں۔
تعلیمی مراحل
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن "چھولس سادات" میں حاصل کی؛ مولانا کی ذہنیت قابل داد و تحسین ہے کہ آپ درجہ اطفال سے پانچویں کلاس تک ہمیشہ ممتاز کا درجہ حاصل کرتے رہے۔ قابل ذکر ہے کہ مولنا کو بچپن سے ہی تعلیم سے لگاؤ رہا ہے۔ مکتب امامیہ سے فارغ ہونے کے بعد "چھولس سادات" میں موجود مدرسہ جامعہ رضویہ میں اپنی تعلیم کا سلسلہ آگے بڑھایا۔ 2 فروری سنہ 2000ء میں عازم ایران ہوئے اور 4 فروری 2000ء میں قم المقدسہ ایران کی پاکیزہ سرزمین پر نزول اجلال فرمایا۔ یہ بات بھی قابل بیان ہے کہ مولنا تقریباً سترہ اٹھارہ سال کی عمر میں ایران تشریف لے گئے تھے؛ ایران میں رہتے ہوئے فارسی اور عربی زبان سے بی اے اور ایم اے فائنل کر کے اکتوبر 2017ء میں واپس اپنے وطن پلٹ آئے۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ جب تک مولانا ایران میں رہے تو اس وقت تک اپنے تعلیمی سلسلہ کے ساتھ تحقیقی کاوشوں میں بھی مشغول رہے اور ان کی تحقیقی کاوشیں ویب سائٹس اور ہندوستان کے مشہور و معروف اخباروں میں قابل دید ہیں۔ تحقیقی کاوشوں کے علاوہ زمانہ کے تقاضوں کے پیش نظر مولانا نے ٹیلیگرام چینل پر فارسی زبان کی کلاسیں بھی رکھیں جس میں کامیابی نے قدم چومے۔ مولانا نے ایران میں رہتے ہوئے تحقیقی کاوشوں کی بابت اسناد بھی حاصل کیں۔ مولانا کے ایران جانے کا تذکرہ چھولس سادات سے متعلق لکھی جانے والی کتاب یادوں کی بارات میں بھی موجود ہے جس میں ان کو "غافر رضا" کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ البتہ مولانا سے گفتگو کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ یہ انہی کا تذکرہ ہے لیکن ان کا اصلی نام "غافر حسن رضوی" ہے اور اس کتاب میں غلطی سے "رضوی" کی جگہ "رضا" لکھ دیا گیا ہے؛ اس غلط فہمی کا سبب یہ ہے کہ مولانا کے برادر بزرگ کا نام "مولانا ذاکر رضا رضوی" ہے تو اسی اعتبار سے "ذاکر رضا" کے پیش نظر "غافر رضا" لکھ دیا گیا ہے۔

اسناد و دستاویزات

موصوف نے جامعہ اردو علی گڑھ سے اردو ادب کی تمام ڈگریاں حاصل کیں یعنی ادیب سے لیکر معلم تک کی تمام اسناد لیں؛ اسی طرح الہ آباد عربی فارسی بورڈ سے آپ نے مولوی سے لیکر فاضل تک کی اسناد حاصل کیں۔ موصوف نے کون سے سنہ میں کون سی سند دریافت کی اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:
عربی فارسی بورڈ الہ آباد
جامعہ اردو علی گڑھ
جامعۃ المصطفی (ایران)
جامعہ رضویہ
جامعہ ملیہ دہلی 
مولوی             =             1996ء
ادیب =       1996 ء
کارشناسی      =       2010ء
کلاس پنجم و تحتانیہ                =     2000ء
ایم اے فارسی 2018ء
منشی                                                =          1997 ء
ادیب ماہر     =1997 ء
ارشد                                     =    2017ء


عالم                                                  =          1998 ء
ادیب کامل=  1998ء
عربی مکالمہ  =       2012ء


فاضل فقہ            =       2005ء
معلم                            =              2015ء



یہ تو مولانا کی علمی صلاحیتوں کا آشکار نمونہ ہے، مزید برآن آپ نے تحقیقی میدان میں بھی کافی اسناد حاصل کی ہیں جن میں سے جشنوارہ شیخ طوسی نامی قم المقدسہ ایران میں منعقد ہونے والا سمینار اور جامعہ ہمدرد دہلی میں معنقد ہونے والا امام رضا علیہ السلام موضوع پر عالمی سیمینار سر فہرست ہیں۔
مولانا کے اساتذہ
تحتانیہ اساتذہ کے اسمائے گرامی
ماسٹر ہادی حسن صاحب
ماسٹر حسن امام صاحب
ماسٹر ناظم حسین صاحب
ماسٹر منوج کمار تیوتیا
فوقانیہ اساتذہ کے اسمائے گرامی
مولانا شمشاد احمد رضوی صاحب قبلہ
مولانا مظفر حسین صاحب قبلہ
مولانا افضال حسین صاحب قبلہ
مولانا محمد مسلم صاحب قبلہ
مولانا فتحیاب صاحب قبلہ
مولانا عون محمد نقوی صاحب قبلہ
مولانا بشارت حسین صاحب قبلہ
مولانا علی عباس حمیدی صاحب قبلہ
مولانا سلطان حسین رضوی صاحب قبلہ
مولانا علی عباس خان صاحب قبلہ
مولانا وزیر عباس صاحب قبلہ
مولانا مظاہر حیدری صاحب قبلہ
ایرانی اساتذہ کے اسمائے گرامی
مولانا مجتہدی صاحب قبلہ
مولانا نوروزی صاحب قبلہ
مولانا لالانی صاحب قبلہ
مولانا سید حسینی صاحب قبلہ (عراقی)
مولانا سید محمد صاحب قبلہ (عراقی)
مولانا ولی زادہ صاحب قبلہ
مولانا سید جواد نقوی صاحب قبلہ (پاکستانی)
مولانا سید مہدی محمدی صاحب قبلہ
مولانا ربانی صاحب قبلہ
مولانا محمد علی مقدادی صاحب قبلہ
مولانا حسن شکوری صاحب قبلہ
مولانا حائری صاحب قبلہ
مذکورہ اساتذہ کے علاوہ بھی بہت سے اسمائے اساتذہ ہیں جو تحریر میں طول کا سبب قرار پاسکتے ہیں اسی لئے ان سے غض نظر کیا جاتا ہے۔
شاعری
مولانا موصوف کی شاعری اپنی مثال آپ ہے؛ آپ نے بے شمار نوحہ جات، قصائد، فضائل، مناقب، نظم، مسدس، اور مثنوی تحریر کئے۔ مزید بر آن مولانا موصوف کو تغزل اور غزل کے میدان میں بھی استادانہ مہارت حاصل ہے۔موصوف کا ہر شعر لاجواب اور اپنی مثال آپ ہوتا ہے موصوف کی شاعری خود موصوف کی آواز میں بھی دستیاب ہے جس کے بعض ٹائٹلز میں "ادیب زمن" لکھا ہوا ملتا ہے۔ آپ کا شمار پندرہویں صدی ہجری کے بہترین اردو شعرامیں کیا جا سکتا ہے۔ آپ کی شاعری دیگر حضرات کی آواز میں بھی دستیاب ہے۔ نیز ٹیکسٹ کی صورت میں پڑھنا چاہیں تو ٹیکسٹ کی صورت میں بھی دستیاب ہے۔
شاعری سے دلچسپی
مولانا کو 15 سال کی عمر سے شاعری سے بے حد لگاؤ رہا، اسی لگاؤ اور دلچسپی کی تاثیر ان کے کلاموں میں آج بھی نظر آتی ہے؛ کچھ مخلصین کی گزارش کے پیش نظر آپ نے کچھ فارسی مناقب و قصائد کا اردو میں منظوم ترجمہ بھی کیا؛ انمنظوم ترجموں میں سے ایران کے مشہور و معروف منقبت خواں علی فانی کی نظم بطاھا بیاسین کا عین اسی طرز پر ترجمہ کیا جس روش پر علی فانی نے وہ کلام پڑھا؛ اس کلام کے ترجمہ کی ابتدا دسمبر 2014 میں ہوئی اور یہ ترجمہ جنوری 2015 میں مکمل ہوچکا تھا جو حال حاضر میں منظر عام پر آچکا ہے۔
تخلص
شاعری کے میدان میں آپ نے اپنی پہچان " فلکؔ چھولسی" سے بنائی ہے یعنی آپ کے کلاموں میں جو لکھا ہوا ٹائٹل ملتا ہے وہ کچھ اس طرح ہے "مولانا سید غافر رضوی فلکؔ چھولسی"۔ البتہ جیسا کہ آپ سے انٹرویو لیتے ہوئے پتہ چلا کہ آپ نے اپنا تخلص " فلکؔ " 24 ذی الحجہ 1438 ہجری میں معین کیا ہے ورنہ اس سے پہلے آپ کا تخلص " غافرؔ " ہی تھا یہی وجہ ہے کہ آپ کے بہت سے کلاموں میں " غافرؔ " تخلص پایا جاتا ہے اور بہت سے کلاموں میں " فلکؔ " ملتا ہے۔
تحقیقی کاوشیں
مولانا موصوف کے آثار سے ظاہر ہے کہ آپ ایک عمدہ مؤلف، مترجم اور مقالہ نگار ہیں۔ آپ کے مضامین 2014ء سے 2016/17 تک ہندوستان کے مشہور و معروف اخباروں میں شائع ہوتے رہے ہیں، اب بھی گاہ بہ گاہ نظروں سے گزرتے رہتے ہیں۔ یوں تو موصوف کے مقالات کا شمار خود موصوف ہی کرسکتے ہیں کہ آپ نے ابتدائے شوق سے ابھی تک کتنے مقالات تحریر کئے ہیں! لیکن ان میں سے بعض مقالات کو موصوف کی وبلاگ پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔  نیز اردو زبان کی بعض سائٹس پر بعض مقالات کا وجود پایا جاتا ہے۔ موصوف نے تالیف کے میدان میں کافی حد تک کام کیا ہے، آپ نے متعدد کتابیں تالیف کی ہیں اور بہت سی کتابوں کا فارسی اور عربی زبان سےاردو میں ترجمہ کیا ہے؛ آپ کی بعض تصنیفات، تالیفات اور ترجمے آنلائن دستیاب ہوسکتے ہیں۔ موصوف کے آثار کو خود موصوف کے نام کے ذریعہ سرچ کر کے تلاش کیا جاسکتا ہے۔

اتوار، 19 فروری، 2017

سسکیاں




سسکیاں

ضیاء الافاضل مولانا سید غافر رضوی

8/3/2016

گوشِ دل کی سماعت کو اپنے ہوش و حواس کھونے کا خطرہ لاحق ہونے لگا...، عجیب قسم کی اداسی ہے...، ہر سمت اداسی ہی اداسی!، جو کسی مظلوم کے شکستہ دل کی عکاسی کر رہی ہے...۔  کیا یہ مدینہ کی وہی گلیاں نہیں ہیں جس کی خاک محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ کی قدم بوسی کرکے فخر و مباہات کیا کرتی تھی!۔
یہ جان لیوا سناٹا کیوں چھایا ہوا ہے؟ کیا مدینے کے رہنے والے سب لوگ خدا کو پیارے ہوگئے! ،   نہیں... سب لوگ زندہ ہیں، خدا کو پیارا تو صرف خدا کا پیارا حبیب ہوا ہے۔
لیکن... اس بات کا کیا مطلب ہے کہ جس گھر سے جنازہ اٹھا ہے وہاں سے دھواں اٹھتا نظر آرہا ہے؟ کیا رسول کی پارۂ جگر عرب کی رسومات بھول چکی ہیں کہ جس گھر میں موت ہوجائے اس گھر میں چولہانہیں جلایاجاتا!، جی نہیں! یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے بیت الشرف میں چولہا روشن نہیں ہے... ذراعقل و خرد کو استعمال کرنے کی کوشش کیجئے... کیا ایک چولہا جلنے سے اتنا زیادہ دھواں اٹھے گا کہ آسمان سے باتیں کرسکے...!!۔  ذرا در رسول صلی اللہ علیہ وآلہ پر جاکر ماجرا دیکھنے کی کوشش کیجئے... یہ چولہا روشن نہیں ہے بلکہ اس دروازہ میں آگ لگی ہوئی ہے جس پر ہر روز خدا کا رسولؐ سلام کیا کرتا تھا... ابھی تو پیغمبر خداؐ کی رحلت کو زیادہ عرصہ بھی نہیں گزرا کہ... دروازہ میں آگ... اللہ اکبر... ۔
یہ مدینہ کے سناٹے میں سسکیوں کی صدائیں کیسی...؟ یہ کیسا سوال ہے!، جب آپ کو معلوم ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ دار فانی سے دار باقی کی جانب کوچ کرچکے ہیں تو کیا ایک چہیتی بیٹی کی سسکیاں سنائی نہیں دیں گی!!۔
جی ہاں!باپ کی مصیبت پر نالہ و فریاد کرنا ہر بیٹی کا حق ہوتا ہے لیکن...یہ مرثیہ کیسا:
 ''بابا تمہارے بعد پڑیں وہ مصیبتیں ... دن پر اگر وہ پڑتیں بدل جاتا رات میں''
آخر اس مرثیہ کا سبب کیا ہے؟ رسولؐ کی چہیتی بیٹی کی زبان پر درد بھرے فقروں کا آنا بے معنی و بے مفہوم نہیں ہے... جب ان مصائب پر تاریخ کی نظر جاتی ہے تو خود تاریخ بھی لہو رونے لگتی ہے... تاریخ کی نظروں کو وہ سانحہ بھلائے نہیں بھولتا جب راتوں کے سناٹوں میں تمام اہالی مدینہ چین و سکون سے آرام کی نیند سورہے تھے لیکن ایک مظلومہ تھی جس کے نالے اہل مدینہ کے آرام میں خلل ڈال رہے تھے، یہ بیٹی کتنی مظلوم تھی کہ باپ کی یادمیں رونے سے بھی لوگوں کی نیند میں خلل پڑ رہا تھا!۔ یہ وہ بی بی ہے جس کے پہلو پر جلتا ہوا دروازہ گرایا گیا، یہ وہ بی بی ہے جس کے شکم میں دنیا کی بہاریں دیکھنے سے قبل ہی ایک بہار، نذر خزاں ہوگئی...۔ یہ وہ مظلوم بی بی ہے کہ جب جلتا ہوا دروازہ پہلو پر گرایا گیا تو اپنے شوہر کو بھی مدد کے لئے نہ پکارسکی بلکہ اپنی کنیز کو مدد کے لئے بلایا: اے فضہ آؤ میری مدد کرو، میرے شکم میں میرا محسن شہید ہوگیا... یہ وہ مظلوم بی بی ہے جس نے اپنے غیور شوہر کے گلے میں ریسمانِ ظلم دیکھی!۔  کیا اس تناظر میں اس بی بی کو اتنا حق بھی حاصل نہیں کہ وہ اپنی سسکیوں سے قصر باطل کولرزا سکے!!۔  کیا کوئی انسان اس مظلومہ کو دیکھ کر یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ شہزادی اپنی حیات کی اٹھارہویں بہار دیکھ رہی ہے! کیا اٹھارہ سال کی نوجوان لڑکی ایسی ہی ہوتی ہے... کمر خمیدہ ہوچکی ہے... سر کے بال سفید ہوچکے ہیں... ہاتھوں میں عصا لیکر چلتی ہے... کیا اب بھی آپ یہی کہیں گے کہ یہ بی بی سسکیاں کیوں لے رہی ہے...!!۔  ہر معاشرہ کا یہ دستور ہوتا ہے کہ مرنے والے کے گھر تعزیت پیش کرنے کو آتے ہیں لیکن یہ معاشرہ کیسا ہے... کیا حضور اکرمؐ نے اپنی حیات میں حکم خداوندی کے تحت یہ نہیں فرمایا کہ میرا اجر رسالت یہی ہے کہ میرے قرابتداروں سے مودت اختیار کرو! کیا اجر رسالت کی ادائیگی کا یہی طریقہ تھا جو رسولؐ کی رحلت کے بعد اپنایا گیا!۔  یہ ایسے حقائق ہیں جن سے کوئی مورخ آنکھیں نہیں چرا سکتا کیونکہ تاریخ اس کی آنکھیں نکال لے گی...۔  یہ مصائب کے تمام پہلو تاریخ میں ایک مظلومہ کی مظلومی کو ببانگ دہل بیان کرتے ہیں جن کی بنا پر یہ سسکیاں کوئی افسانہ نہیں بلکہ حقیقت پر مشتمل وہ اظہار غم ہے جو عالم بشریت کو سوچنے پر مجبور کردے!۔  ان سسکیوں نے تو تاریخ کو بھی سسکیاں لینے پر مجبور کردیا... ان سسکیوں کا تانتا اس وقت تک بندھا رہا جب تک روح قفس عنصری سے پرواز نہ کرگئی...۔  یکبارگی تسبیح و تہلیل کی آواز بند ہوئی، اسمیٰ نے چیخ مارکر گریہ کرنا چاہا لیکن حالات کے پیش نظر آواز گلے میں گھٹ کر رہ گئی... آخر اس مظلومہ نے کتنے ستم سہے تھے کہ غسل وکفن اور دفن کی وصیت بھی کی تو رات کے لئے... یاعلی مجھے رات میں غسل دیجئے گا، یاعلی مجھے رات میں کفن دیجئے گا، یاعلی مجھے رات میں دفن کیجئے گا... ''۔ زبان حال سے شہزادیؑ اپنے شوہرِ نامدار سے وصیت کررہی تھیں:
"برما رہی ہیں قلب کو ان کی وصیتیں  ...غسل وکفن ہو میرا اندھیروں کے سائے میں ''
 وصیت پر عمل کرتے ہوئے علیؑ نے جنازہ کو غسل دینا چاہا تو علیؑ جیسا صابر بھی چیخ مارکر رودیا! اس صابر نے ایسا کیا دیکھ لیا کہ دامن صبر چھوٹ گیا! پیمانۂ صبر لبریز ہوگیا!! مزاج شناسِ امامت ''سلمان فارسی'' ہاتھوں کو جوڑکر آگے بڑھے... مولا!... اس چیخ کا سبب...؟ مولا نے آنسو صاف کرتے ہوئے جواب دیا: ''سلمان!... بنت رسولؐ بہت صابرہ تھی، اپنے شکستہ پہلو کو لے کر رسولؐ سے جا ملی لیکن مجھ سے اس درد کا اظہار نہیں کیا...''۔ جس جنازہ میں پورے مدینہ کو آہ وفغاں کے ساتھ جانا چاہئے تھا اس جنازہ میں انگشت شمار افراد زمانہ کی بے رخی بیان کررہے ہیں اور اس تاریخ کا تقاضہ ہے کہ فاطمہ بنت رسولؐ کی سسکیوں کے ساتھ زمانے کو بھی سسکیاں بھرنی چاہئیں۔    
منابع و حوالہ جات:
1۔سوگنامۂ آل محمدؐ۔
٢۔منتہیٰ الآمال۔
٣۔شرح نہج البلاغہ: ابن ابی الحدید معتزلی۔
٤۔الملل و النحل: شہرستانی۔
٥۔الامامة والخلافة: مقاتل بن عطیہ۔
٦۔الاستیعاب: قرطبی۔
٧۔المصنف: ابن ابی شیبہ۔
٨۔اثبات الوصیة:مسعودی۔
٩۔عقد الفرید: ابن عبد ربہ۔
١٠۔بحار الانوار: علامہ مجلسی۔
 ١١۔تاریخ الامم و الملوک: محمد بن جریر طبری۔

 ١٢۔انساب الاشراف: بلاذری۔
 
افکار ضیاء. Afkar-e-Zia - Free Blogger Templates, Free Wordpress Themes - by Templates para novo blogger HD TV Watch Shows Online. Unblock through myspace proxy unblock, Songs by Christian Guitar Chords